ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سپریم کورٹ نے بی ایچ یو میں طلبہ اورطالبات کے درمیان جنسی امتیازکاالزام،معاملہ پہنچاسپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے بی ایچ یو میں طلبہ اورطالبات کے درمیان جنسی امتیازکاالزام،معاملہ پہنچاسپریم کورٹ

Wed, 30 Aug 2017 12:26:23    S.O. News Service

نئی دہلی،29اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) زنارس ہند یونیورسٹی(بی ایچ یو) کے خواتین کالج کے ہاسٹل میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی امتیاز کی بنیاد پر تعصب کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔سپریم کورٹ درخواست پرسماعت کیلئے بھی متفق ہوگیاہے۔سپریم کورٹ میں درج کردہ درخواستوں میں گرلزہاسٹل کیلئے بنائے گئے قوانین کو چیلنج کیاگیاہے۔

درخواست میں یہ کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے لئے جنسی قوانین کے تحت صنف امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔درخواست میں یہ کہا گیا ہے کہ 8بجے کے بعدلڑکیوں کو ہاسٹل چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے یہاں تک کہ وہ لائبریری میں بھی نہیں جا سکتیں،جبکہ طلباء کو 10بجے تک اجازت ہے۔طالبات کوہاسٹل کے کمرے میں وائی فائی لگانے کی اجازت نہیں ہے۔قواعد کے مطابق، لڑکیاں اپنے کمرے کے باہر مہذب لباس میں رہیں گے جبکہ طلبہ کے لئے کوئی لباس کوڈ نہیں ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں ایک قاعدہ ہے کہ لڑکیوں کو ہاسٹل میں میٹ نہیں کھاسکتیں اور نہ ہی وہ کسی سیاسی بحث میں حصہ لے سکتی ہیں لیکن یہ قوانین لڑکوں پر لاگو نہیں ہیں۔10بجے بعد لڑکیاں موبائل فون سے بات بھی نہیں کر سکتی ہیں۔

وکیل پرشانت بھوشن نے کچھ لڑکیوں کی جانب سے چیف جسٹس دیپک مشرا کے بینچ کے سامنے معاملہ رکھا۔پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ اگر کوئی طالبہ کسی بھی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، توسے ہاسٹل چھوڑنے کیلئے کہ دیاجاتاہے۔


Share: